Back to Search

Adventure Kahani

AUTHOR Sahib, Raja
PUBLISHER Himalaya Book World (05/17/2022)
PRODUCT TYPE Paperback (Paperback)

Description
اردو کی نثری اصناف میں افسانے کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ افسانے کے ابتدائی دور پر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ، کہانی کی پیدوار ہے۔ کہانی ہر دور میں لکھی، سنی اور سنائی گئی ہے۔ کہانی کی تاریخ خود نوعِ انسان جتنی ہی پرانی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ کہانی سننا اور سنانا پسند کرتا ہے، یعنی انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے یا دوسروں کے حالات اور واقعات نہ صرف سننا پسند کرتا ہے بلکہ سنانے سے اپنے من کا بوجھ بھی ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ قدیم زمانے میں جب انسان اس قدر زندگی کی مشکلات سے دو چار نہ تھا۔ صرف پیٹ بھرنے کے لیے دو وقت کی روٹی، اُوڑھنے بچھونے کے لیے چادر اور سر چھپانے کے لیے ایک سادہ سی جھونپڑی کی ضرورت پوری کرنے کے بعد وہ زندگی کے معاملات سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ سو کہانی سننا اور سنانا انسانی سماج کا حصہ بن گیا تھا۔ چوپالوں، حجروں، قصبوں اور گھروں میں قصہ خواں کہانی سنایا کرتے تھے اور دوسرے لوگ ان کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ کہانیاں کبھی انسانی زندگی کی براہِ راست تشہیر کرتی تھیں یا سننے والوں کو خیالی دنیا میں لے جا کر جن اور پریوں، شہزادوں اور شہزادیوں کی حیرت انگیز زندگی کی سیر کراتی تھیں۔ غور کیا جائے، تو آج ک&
Show More
Product Format
Product Details
ISBN-13: 9789046804230
ISBN-10: 9046804232
Binding: Paperback or Softback (Trade Paperback (Us))
Content Language: Urdu
More Product Details
Page Count: 100
Carton Quantity: 82
Product Dimensions: 6.00 x 0.21 x 9.00 inches
Weight: 0.32 pound(s)
Country of Origin: US
Subject Information
BISAC Categories
Fiction | General
Descriptions, Reviews, Etc.
publisher marketing
اردو کی نثری اصناف میں افسانے کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ افسانے کے ابتدائی دور پر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ، کہانی کی پیدوار ہے۔ کہانی ہر دور میں لکھی، سنی اور سنائی گئی ہے۔ کہانی کی تاریخ خود نوعِ انسان جتنی ہی پرانی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ کہانی سننا اور سنانا پسند کرتا ہے، یعنی انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے یا دوسروں کے حالات اور واقعات نہ صرف سننا پسند کرتا ہے بلکہ سنانے سے اپنے من کا بوجھ بھی ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ قدیم زمانے میں جب انسان اس قدر زندگی کی مشکلات سے دو چار نہ تھا۔ صرف پیٹ بھرنے کے لیے دو وقت کی روٹی، اُوڑھنے بچھونے کے لیے چادر اور سر چھپانے کے لیے ایک سادہ سی جھونپڑی کی ضرورت پوری کرنے کے بعد وہ زندگی کے معاملات سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ سو کہانی سننا اور سنانا انسانی سماج کا حصہ بن گیا تھا۔ چوپالوں، حجروں، قصبوں اور گھروں میں قصہ خواں کہانی سنایا کرتے تھے اور دوسرے لوگ ان کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ کہانیاں کبھی انسانی زندگی کی براہِ راست تشہیر کرتی تھیں یا سننے والوں کو خیالی دنیا میں لے جا کر جن اور پریوں، شہزادوں اور شہزادیوں کی حیرت انگیز زندگی کی سیر کراتی تھیں۔ غور کیا جائے، تو آج ک&
Show More
List Price $29.00
Your Price  $28.71
Paperback